نئی دہلی،23مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) جسٹس پناکی گھوش نے ہفتہ کو ملک کے پہلے لوک پال سربراہ کے طور پر حلف اٹھا لیا۔صدارتی محل میں صدر رام ناتھ کووند نے انہیں حلف دلایا۔اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں مبارک باد دی۔صدر رام ناتھ کووند نے منگل کو لوک پال کی تقرری کی منظوری دے دی تھی۔ایک سرکاری حکم کے مطابق مسلح سر حد فورس (ایس ایس بی) کی سابق سربراہ ارچنا رامسدرم، مہاراشٹر کے سابق چیف سکریٹری دنیش کمار جین، مہندر سنگھ اور اندرجیت پرساد گوتم کو لوک پال کا غیر عدالتی رکن مقرر کیا گیا ہے۔جسٹس دلیپ بی بھونسلے، جسٹس پردیپ کمار موہنتی اور جسٹس اجے کمار ترپاٹھی کو اینٹی کرپشن باڈی کا عدالتی رکن مقرر کیا گیا ہے،یہ تقرریاں اس تاریخ سے مؤثر ہوں گی، جس دن وہ اپنے اپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گے۔
جسٹس گھوش مئی، 2017 میں سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے تھے،وہ 29 جون، 2017 سے قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آرسی) کے رکن ہیں۔ان کی تقرری کی سفارش وزیر اعظم نریندر مودی زیر قیادت سلیکشن کمیٹی نے کی تھی اور صدر رام ناتھ کووند نے اسے منظوری دے دی۔لوک پال اور لوک آیکت قانون کے تحت کچھ اقسام کے سرکاری ملازمین کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کے لئے مرکز میں لوک پال اور ریاستوں میں لوک آیکت کی تقرری کی تجویز ہے،یہ قانون 2013 میں منظور کیا گیا تھا۔یہ تقرریاں سات مارچ کو سپریم کورٹ کے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال سے 10 دن کے اندر اندر لوک پال سلیکشن کمیٹی کے اجلاس کی ممکنہ تاریخ کے بارے میں مطلع کرنے کے نصف ماہ بعد ہوئی ہے۔عدالت کے اس حکم کے بعد 15 مارچ کو سلیکشن کمیٹی کی میٹنگ ہوئی تھی۔قواعد کے مطابق لوک پال کمیٹی میں ایک صدر اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکن ہو سکتے ہیں،ان میں سے چار عدالتی رکن ہونے چاہئے، ان میں سے کم از کم 50 فیصد رکن ایس سی، ایس ٹی، اوبی سی، اقلیت اور خواتین ہونے چاہئے۔انتخاب کے بعد صدر اور رکن پانچ سال یا 70 سال کی عمر تک عہدے پر رہیں گے۔بیرون ملک لوک پال جیسے ادارے کافی سال پہلے سے ہیں، لیکن ہندوسان میں اس کا اندراج سال 1967 میں ہوا۔اس بل کو لے کر سماجی کارکن انا ہزارے نے ایک بھوک ہڑتال کی اور وہ ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہو گئی۔اس کے بعد لوک سبھا نے 27 دسمبر، 2011 کو لوک پال بل پاس کیا، پھر 23 نومبر 2012 کو پرور کمیٹی کو بھیجنے کا فیصلہ کیا۔اس کے بعد 17 دسمبر 2013 کو راجیہ سبھا میں لوک سبھا بل منظور ہوا۔